Header Ads Widget

Ticker

6/recent/ticker-posts

Fajar Ki Namaz Ka Time | Fajar Ki Namaz Ka Tarika | How to learn Namaz | نماز سیکھیں | Namaz Ka Tarika | Fajar ki sunnat |

 فجرکی نماز کے فضائل 

Fajar Ki Namaz Ka Time | Fajar Ki Namaz Ka Tarika | How to learn Namaz | نماز سیکھیں | Namaz Ka Tarika | Fajar ki sunnat |


نبی کریمﷺکا اِرشاد ہے: جس نے صبح کی نماز پڑھی وہ اللہ تعالیٰ کے ذمّہ میں آجاتا ہے، پس (اِس بات کا خیال رکھنا کہ)اللہ تعالیٰ تم سے اپنے ذمّہ کے بارے میں کسی چیز کا مطالبہ نہ کریں، اِس لئے کہ جس سے اللہ تعالیٰ نے اپنے ذمّہ کا مطالبہ کردیا اُسے پکڑلیں گےپھر اُسے اوندھے منہ جہنم میں ڈال دیں گے۔مَنْ صَلَّى صَلَاةَ الصُّبْحِ فَهُوَ فِي ذِمَّةِ اللهِ، فَلَا يَطْلُبَنَّكُمُ اللهُ مِنْ ذِمَّتِهِ بِشَيْءٍ، فَإِنَّهُ مَنْ يَطْلُبْهُ مِنْ ذِمَّتِهِ بِشَيْءٍ يُدْرِكْهُ، ثُمَّ يَكُبَّهُ عَلَى وَجْهِهِ فِي نَارِ جَهَنَّمَ۔(مسلم:657)

نبی کریمﷺکا اِرشاد ہے : جس نے سورج طلوع ہونے سے پہلے یعنی فجر اور سورج غرب ہونے سے پہلے یعنی عصر کی نماز پڑھی وہ شخص جہنم میں ہرگز داخل نہیں ہوگا ۔ لَنْ يَلِجَ النَّارَ أَحَدٌ صَلَّى قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ، وَقَبْلَ غُرُوبِهَا» - يَعْنِي الْفَجْرَ وَالْعَصْرَ - ۔(مسلم:634)

نبی کریمﷺکا اِرشاد ہے: جس نے دو ٹھنڈی نمازیں (یعنی فجر اور عصر یا فجر اور عشاءکی نماز) پڑھی وہ جنت میں داخل ہوگا۔مَنْ صَلَّى الْبَرْدَيْنِ دَخَلَ الْجَنَّةَ۔(مسلم :635)

فائدہ : دو ٹھنڈی نمازوں سے مراد فجر اور عصر کی نماز ہے،بعض نے اِس کا مصداق فجر کی اور عشاء کی نماز کو قرار دیا ہے۔(مرقاۃ )



نبی کریمﷺکا اِرشاد ہے: جو صبح سویرے فجر کی نماز کے لئے جاتا ہے وہ ایمان کا جھنڈا لیکر جاتا ہے اور جو صبح بازار کی جانب جاتا ہے وہ ابلیس کا جھنڈا لیکر جاتا ہے۔مَنْ غَدَا إِلَى صَلَاةِ الصُّبْحِ غَدَا بِرَايَةِ الْإِيمَانِ، وَمَنْ غَدَا إِلَى السُّوقِ غَدَا بِرَايَةِ إِبْلِيسَ۔(ابن ماجہ :

 نبی کریمﷺکا اِرشاد ہے: اندھیروں میں مسجدوں کی طرف جانے والوں کو قیامت کے دن مکمل نور کی بشارت دیدو۔ بَشِّرِ الْمَشَّائِينَ فِي الظُّلَمِ إِلَى الْمَسَاجِدِ، بِالنُّورِ التَّامِّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ۔(ابن ماجہ:781)

نبی کریمﷺکا اِرشاد ہے :اندھیروں میں مسجدوں کی طرف جانے والے لوگ در اصل اللہ کی رحمت میں ڈوب جانے والے ہیں۔الْمَشَّاءُونَ إِلَى الْمَسَاجِدِ فِي الظُّلَمِ، أُولَئِكَ الْخَوَّاضُونَ فِي رَحْمَةِ اللَّهِ۔(ابن ماجہ:779)

نبی کریمﷺکا اِرشاد ہے: تمہارے پاس یکے بعد دیگرے دن رات فرشتے آتے رہتے ہیں (جو تمہارے اعمال لکھتے اور بارگاہِ الٰہی میں پہنچاتے رہتے ہیں)اور فجر اور عصر کی نماز میں سب جمع ہوتے ہیں اور تمہارے پاس رہنے والے فرشتے (جس وقت)آسمان پر جاتے ہیں تو اللہ تعالیٰ بندوں کے احوال جاننے کے باوجود ان سے(بندوں کے احوال و اعمال) پوچھتے ہیں کہ تم نے میرے بندوں کو کس حال میں چھوڑا؟وہ عرض کرتے ہیں کہ ہم نے اُنہیں نماز پڑھتے ہوئے چھوڑا ہے اور جب ہم اُن کے پاس آئے تھے اُس وقت بھی وہ نماز پڑھ رہے تھے۔يَتَعَاقَبُونَ فِيكُمْ مَلاَئِكَةٌ بِاللَّيْلِ وَمَلاَئِكَةٌ بِالنَّهَارِ، وَيَجْتَمِعُونَ فِي صَلاَةِ الفَجْرِ وَصَلاَةِ العَصْرِ، ثُمَّ يَعْرُجُ الَّذِينَ بَاتُوا فِيكُمْ، فَيَسْأَلُه

ُمْ وَهُوَ أَعْلَمُ بِهِمْ: كَيْفَ تَرَكْتُمْ عِبَادِي؟ فَيَقُولُونَ: تَرَكْنَاهُمْ وَهُمْ يُصَلُّونَ، وَأَتَيْنَاهُمْ وَهُمْ يُصَلُّونَ۔(بخاری:



فجر سے پہلے کی سنّت :

اِمام مالک﷫:فجر سے پہلے دو رکعت پڑھی جائے گی،جو ”رغیبہ“کہلاتی ہے ۔اور”رغیبہ“کا مطلب یہ ہے کہ جو سنّت سے کم لیکن نفل سے اوپر ہو ۔

ائمہ ثلاثہ﷭:فجر سے پہلے دو رکعت سنّتِ مؤکّدہ پڑھی جائے گی۔(الفقہ علی المذاہب:1/297 تا 299

خلاصہ : یہ ہے کہ فجر سے پہلے دو رکعت پڑھنے کے سب ہی قائل ہیں اور سب کے نزدیک اس کی تاکید دوسری سنن کے مقابلے میں زیادہ ہے، البتہ اِمام مالک﷫اِس کو ”رغیبہ“کا نام دیتے ہیں ، جبکہ جمہور کے نزدیک یہ سنّتِ مؤکّدہ ہے

فجر کی نماز کا قضا ہونا

تیما سے واپس ہوئے تو رات بھر سفر کرنے کی وجہ سے تکان محسوس ہو رہی تھی، چنانچہ صحابہ ؓ نے پڑاؤ کی درخواست کی ، حضور ﷺنے فرمایا مجھے ڈر ہے کہ کہیں سوتے میں نماز نہ نکل جائے، حضرت بلالؓ نے عرض کیا میں جگا دوں گا، چنانچہ وہاں قیام کیا گیا اور حضرت بلالؓ سے پہرہ دینے کے لئے کہا گیا، بلال ؓ جاگنے کی خاطر نماز پڑھتے رہے ، پھر اپنی سواری سے ٹیک لگا کر مشرق کی جانب طلوع سحر کا انتظار کرتے رہے، بیٹھے بیٹھے ان پر اونگھ طاری ہوئی پھر نیندآگئی، جب دھوپ نکلی توسب سے پہلے حضور اکرم ﷺ کی آنکھ کھلی ، گھبرا کر فرمایا ائے بلال تمہارا وہ ذمہ کیا ہوا ؟عرض کیا … یا رسول اللہ ! جس چیز نے آپ کو روک لیا میر ے نفس پر بھی طاری ہو گئی ، ایسی نیند مجھے کبھی نہیں آئی تھی ، فرمایا ہماری ارواح اللہ تعالیٰ کے قبضہ میں ہیں ، جب چاہتا ہے ہمارے جسموں میں واپس کر دیتا ہے ، جب کوئی نماز غلبہ ‘ نیند یا بھول کی وجہ سے فوت ہو جائے تو بیدارہونے پر یا یاد آتے ہی ادا کرے، کیونکہ اللہ تعالیٰ فرمایا ہے ! میرے ذکر کے لئے نماز قائم کرو، یہاں سے کوچ کرو ، یہاں شیطان آگیا ہے ، کچھ دورجا کر اذان کا حکم دیا ، وضو کر کے پہلے سنت ادا فرمائی ، حضرت بلال ؓ نے اقامت کہی اور آپ ﷺ نے نماز پڑھائی،

مدینہ کو واپسی-

وہاں سے جب مدینہ منورہ میں داخل ہوئے تو جبل اُحد دکھائی دیا ، آپﷺ نے ارشاد فرمایا " ہم اس پہاڑ سے محبت کرتے ہیں اور یہ ہم سے محبت کرتا ہے ، ائے اللہ میں دونوں پہاڑوں کی درمیانی جگہ ( مدینہ ) کو حرم قرار دیتا ہوں


فجر کی سنتوں کا بیان

۱۔ اس کے بعد فجر کی سنتیں پڑھے۔ پہلی رکعت میں قُلْ یٰٓـاَیُّھَا الْکٰفِرُوْنَ پڑھے اور دوسری رکعت میں قُلْ ہُوَ اللّٰہُ اَحَدٌ پڑھے، یا پہلی رکعت میں [یہ پڑھے]:

قُوْلُوْآ اٰمَنَّا بِاللّٰہِ وَمَآ اُنْزِلَ اِلَیْنَا وَمَآ اُنْزِلَ اِلٰٓی اِبْرَاھِیْمَ وَاِسْمٰعِیْلَ وَاِسْحٰقَ وَیَعْقُوْبَ وَالْاَسْبَاطِ وَمَآ اُوْتِیَ مُوْسٰی وَعِیْسٰی وَمَآ اُوْتِیَ النَّبِیُّوْنَ مِنْ 

رَّبِّھِمْ لَا نُفَرِّقُ بَیْنَ اَحَدٍ مِّنْھُمْ وَنَحْنُ لَہٗ مُسْلِمُوْنَO 1

(اے مسلمانو!) تم کہہ دو ہم تو اللہ ہی پرایمان لے آئے اور اس (کتاب قرآن) پر جو ہمارے لیے اتارا گیا اور ان (صحیفوں)پر جو ابراہیم پر، اسمٰعیل پر، اسحق پر، یعقوب پر اور اولاد یعقوب ؑ پر اتارے گئے اور اس (کتاب تورات) پر جو موسیٰ ؑ پر اور اس(کتاب انجیل) پر جو عیسیٰ ؑ پر اتاری گئی اور جو دوسرے انبیا ؑ کو ان کے رب کی جانب سے (شریعتیں) دی گئیں (سب پر ایمان لے آئے)، ہم ان نبیوں میں سے کسی ایک میں بھی فرق نہیں کرتے، اور ہم تو اسی (ایک اللہ) کے فرماں بردار ہیں (جس نے ان تمام نبیوں کوپیغمبر بناکر بھیجا)۔

اور دوسری رکعت میں[یہ پڑھے]::

قُلْ یٰٓـاَھْلَ الْکِتٰبِ تَعَالَوْا اِلٰی کَلِمَۃٍ سَوَآئٍ م بَیْنَنَا وَبَیْنَکُمْ اَلَّا نَعْبُدَ اِلَّا اللّٰہَ وَلَا نُشْرِکَ بِہٖ شَیْئًا وَّلَا یَتَّخِذَ بَعْضُنَا بَعْضًا اَرْبَابًا مِّنْ دُوْنِ اللّٰہِ فَاِنْ تَوَلَّوْا فَقُوْلُوا اشْھَدُوْا بِاَنَّا مُسْلِمُوْنَO 2

(اے پیغمبر!) تم کہہ دو: اے اہل کتاب (یہود و نصاریٰ) آئو ایسی بات کو ہم تم اختیارکرلیں جو ہمارے اور تمہارے درمیان یکساں (مانی ہوئی) ہے کہ ہم اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں، اور اللہ کے ساتھ کسی بھی چیز کو شریک نہ ٹھہرائیں، اور اللہ کے سوا ہم میں سے کوئی کسی کو اپنا رب نہ بنائے، پھر اگر وہ اس سے انحراف [روگردانی] کریں تو تم ان سے کہہ دو کہ تم گواہ رہو کہ ہم تو مسلمان (اللہ کے فرماں بردار) ہیں۔

اور فجر کی سنتوں سے فارغ ہوکر وہیں بیٹھے بیٹھے تین مرتبہ پڑھے:

اللّٰھُمَّ رَبَّ جِبْرَائِیْلَ وَمِیْکَائِیْلَ وَاِسْرَافِیْلَ وَمُحَمَّدِ ِنالنَّبِیِّ (صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ) اَعُوْذُ بِکَ مِنَ النَّارِ۔1

اے اللہ! جبرائیل، میکائیل، اسرائیل اور محمد نبی ؑ کے پروردگار! میں جہنم سے تیری پناہ لیتا ہوں (تو مجھے بچادے)۔

پھر (اگر وقت ہو تو) اسی جگہ داہنی کروٹ پر قبلہ رو (ذرا دیر کے لیے) لیٹ جائے (تاکہ تھکن دور ہوجائے اور فجر کی نماز پورے نشاط [چستی] کے ساتھ پڑھ سکے)۔


I Covered these points in the video

> Fajar ki namaz ka tarika

> Namaz ka tarika

> Fajar ki namaz

> Namaz,namaz padhne ka tarika

> Fajar ki namaz padhne ka tarika

> Fajar ki 2 rakat sunnat namaz ka tarika

> 2 Rakat farz namaz ka tarika

> Fajar namaz ka tarika

> Namaz padhne ka sahi tarika

> Fajar ki namaz ka time

> Fajar ki 2 rakat farz namaz ka tarika

> Namaz fajr ka tarika

> 2 rakat sunnat namaz ka tarika


Post a Comment

0 Comments