Header Ads Widget

Ticker

6/recent/ticker-posts

Hamal Girana In Islam | Hamal Girana Jayaz | حمل گرانا جائز ہے | Isqat e Hamal Ka karika | dailyjetpost

 اسقاط حمل یعنی حمل گرانے کا حکم

Hamal Girana In Islam | Hamal Girana Jayaz  | حمل گرانا جائز ہے | Isqat e Hamal Ka karika |



بلا عذر اسقاط حمل ناجائز ہے (اگرچہ جان نہ پڑی ہو) اور عذر و ضرورت سے جب تک کہ حمل میں جان نہ پڑی ہو جائز ہے‘ اگر تحقیق فن سے حمل میں جان پڑنا محتمل ہو تب تو مطلقاً حمل گرانا حرام ہے اور موجب قتل نفس زکیہ ہے (یعنی قتل کا گناہ ہو گا) اگر جان پڑ جانے کے بعد اسقاط حمل کیا تو اگر مردہ ہی گر گیا تو پانچ سو درہم ضمان لازم ہے اور وہ باپ کو ملے گا اور اگر زندہ ہو کر مر گیا تو پوری دیت یعنی خون بہا اور کفارہ قتل واجب ہے۔

(البتہ) اگر جان نہیں پڑی سو اگر کوئی عذر صحیح (شرعی) ہو تو اسقاط جائز ہے۔ (یعنی) اگر اس عورت کو یابچہ کو اس حمل سے کچھ نقصان ہو تو جائز ہے ورنہ نہیں (اور عذر صحیح کا یہی مطلب ہے)

خلاصہ کلام یہ ہے کہ سب میں اشد (گناہ کبیرہ) حمل حی (یعنی زندہ حمل) کا اسقاط ہے اور اس سے کم حمل غیر حی کا اور اس سے کم مانع حمل دوائوں کا استعمال۔ البتہ عذر مقبول سے آخر کے دو امر (یعنی مانع حمل تدبیر یا جان پڑنے سے پہلے حمل کا اسقاط) جائز ہیں اور امر اول (یعنی زندہ حمل کا اسقاط) ہر حال میں حرام ہے۔

(امداد الفتاویٰ جلد ۴



عورت کو جب حمل ٹھہر جائے تو جوش اور شہوت والا آدمی اگر اس عورت سے صحبت کرے گا تو جنین (بچہ) پر برا اثر پڑے گا اور حمل گر جانے کا اندیشہ ہے لہٰذا اس عورت کو آرام دے اور صحبت ترک کر دے۔

حاملہ کے ساتھ صحبت کی ممانعت کی وجہ ایک تو اسقاط حمل کا اندیشہ ہے دوسرے اس حمل سے جو اولاد پیدا ہو گی اس کے اخلاق و اطوار میں والدین کے شہوانی جوش مرکوز ہو کر بد اخلاقی پیدا کر دیں گے۔ کیونکہ شہوت کے جوش کا اثر جنین (بچہ) پر ضرور پڑتا ہے اور وہ طبیعت میں فطری ہو جاتا ہے۔ (ایضاً صفحہ ۲۰۳)

دودھ پلانے والی عورت سے صحبت کرنا

دودھ پلانے والی عورت سے صحبت کرنا (بعض اعتبار سے) بچہ کے لئے مضر ہے لیکن اطباء (ڈاکٹروں) نے اس امر کی اصلاح کے لئے بعض دوائوں کے ساتھ (تدبیر) بتلائی ہے لہٰذا یہ قادح (مضر) نہ رہا۔ (المصالح العقلیہ)

منع حمل کی تدبیر اختیار کرنا 

سوال: بعض عورتیں جسم کی کمزور ہوتی ہیں اور بچے بہت جلد جلد ہوتے ہیں اس سے ان کی بھی تندرستی خراب ہوجاتی ہے اور بچے بھی دودھ خراب ہونے سے دائم المرض ہو جاتے ہیں اس صورت میں مانع حمل دوائی کھانا جائز ہے نہیں۔

جواب: آئندہ کے لئے حمل قرار نہ پانے کی تدبیر اختیار کرنا بلا عذر مذموم ہے۔

مسئلہ ثانیہ (صور ت مذکورہ) میں چونکہ عذر صحیح ہے اس لئے مانع حمل دوا کھانا جائز

CALCK Hair

حالت حمل میں بیوی کے پاس جانے سے احتیاط

عورت ہر وقت اس قابل نہیں ہوتی کہ خاوند اس سے ہم بستر ہو سکے کیونکہ ایام حمل عورت کے لئے ایسے ہوتے ہیں۔ خصوصاً اس کے پچھلے مہینے (یعنی شروع کے ایام) جن میں عورت کو اپنے اور اپنے جنین (پیٹ کے بچہ) کی صحت کے لئے ضروری ہے کہ وہ مرد کی صحبت سے پرہیز کرے اور یہ صورت کئی ماہ تک رہتی ہے پھر جب وضع حمل (ولادت) ہوتا ہے تو پھر بھی کچھ مدت تک عورت کو مرد کی صحبت سے پرہیز کرنا لازمی ہے۔ (المصالح العقلیہ صفحہ ۲۰۳)

حالت حمل میں بیوی سے قریب ہونے کی ممانعت محض طبی ہے

حالت حمل میں قریب ہونے کا نقصان


I Covered these points in the video

>  hamal zaya karne ka tarika
> hamal rokne ka tarika
 > hamal ko khatam karne ka tarika
 > hamal check karne ka tarika
 > hamal girane ka tarika in urdu
> hamal ki hifazat ka tarika
> hamal khatam karne ka tarika
> hamal khatma karna ka tarika
 .> hamal girane ka tarika
> hamal waste karne ka tarika
 > hamal,hamal girane ka asan tarika
 > hifazat e hamal ka wazifa
> isqat e hamal ki hifazat ka mujarab amal
> isqat e hamal
> hamal tehrane ka tarika
 .> hamal teharne ka tarika
> 4 week ka hamal karwa sakte hai
> hamal na therne ka tarika

Post a Comment

0 Comments